🎆🎇🎄🏖️🏠🏕️🏝️😎🏝️🏕️🏠🏖️🎄🎇🎆
obesity
موٹاپا اور اس کا ہومیوپیتھی علاج
یہ مرض ایک ایسی بیماری ہے جو اس معاشرے میں ہر طرف پھیل چکی ہے کونکہ ترقی یافتہ ممالک میں خوراک کی فروانی چکنائی اور ناشاشتے کا بکثرت استعمال اس مرض کی سب سے بڑی وجہ ہے مگر اس کی وجوہات میں جو لوگ کسی دفتر میں کام کرتے ہیں یا جن کو دماغی محنت زیادہ کرنی پڑھتی ہے اور اس کے نتیجے میں جسمانی محنت بالکل بھی نہیں کرتے ایسے افراد میں موٹاپے کا رحجان زیادہ پایا جاتا ہے -اور اس کے نتیجے میں ایسے لوگ جو کھیتوں میں یا پھر محنت مزدوری کرنے والے لوگ اس مرض کا کم ہی شکار ہوتے ہیں کیونکہ یہ لوگ ہر وقت بیٹھنے والاکام نہیں کرتے اس لئے ان کے جسم میں چربی بننے کا عمل بالکل بھی نہیں ہوتا -
اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہے کہ اس مرض کی ابتدا جسم کے کس حصے سے شروع ہوتی ہے اور وزن بڑھنے کی رفتار عمر کے مختلف حصوں میں مختلف ہوتی ہے 25 سے 40سال تک وزن بڑھنے کی رفتارزیادہ ہوتی ہے اور جب عمر 50 سے60 سال تک پہنچتی ہے تو پھر وزن کم ہونا شروع ہو جاتا ہے -
اس مرض کے پیدا ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ضرورت سے زیادہ خوراک کا کھانا اور ٹائم سے ہٹ کر کھانا یہ مرض ان چار چیزوں کے کھانے سے پیدا ہوتا ہے اور یہ چاروں چیزیں َچ َ سے شروع ہوتی ہیں 1 چکنائی 2 چینی 3 چپاتی 4 چاول اور جو بھی انسان ان چیزوں کا اعتدال میں رکھ کر کھائے گا اس مرض سے بچا رہے گا -
اس مرض کا تیزی سے پروان چڑھنے میں ورزش کا نہ کرنا بوتل کا بہت زیادہ استعمال بھی شامل ہے ویسے تو یہ چیزیں ہر انسان کی ضرورت ہے لیکن جب ان کوکھا کر انسان ورزش کرتا ہے تو ورزش کے زریعہ ان کے برے اثرات کو زئل کیا جا سکتا ہے انسان کو 24 گھنٹے میں اپنی زات کیلئے صرف 1 گھنٹہ نکالنا چاہئے اور اس میں یا تو کوئی سیر یا پھر کوئی ورزش یا کوئی گیم ضرور کرنی چاہئے اور خاص کر صبع کا وقت کیونکہ اس وقت ہمیں تازہ آکسیجن ملتی ہے جو کہ انسانی صحت کیلئے بہت مفید ہے -
بچپن سے جوانی تک مرد اور عورت کا وزن برابر بڑھ سکتا ہے مگر بعد میں جب ایک عورت ماں بنتی ہے تو وہ کھانے میں احتاط نہیں کرتی تو پھر اس کے نتیجے میں یہ مرض پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے اللہ تعالی نے انسانی جسم کی ساخت ایسی بنائی ہے کہ یہ ضرورت سے زیادہ وزن نہیں اٹھا سکتا اور اگر ایسا ہو گا تو پھر اس کے نتیجے میں اس کے پاوں چپٹے ہو جاتے ہیں ہڈیوں اور جوڑوں کے امراض پیدا ہو جاتے ہیں اور پٹھے جو دل کو خون کی واپسی میں معاون ثابت ہوتے ہیں اور چربی کے زریعےان پٹھوں کی کارکردگی متاثر ہو جاتی ہے اور موٹاپے کی وجہ سے شوگر جیسے مرض کے خطرات زیادہ ہوجاتے ہیں موتاپے کی وجہ سے پتے میں پتھریاں گنٹھیا اور دل کے خطرناک مرض پیدا ہو سکتے ہیں اس لئے اس مرض کو کم کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ قوت ارادی سے کام لینا چاہئے اور وہ تمام عادات ختم کرنی ہونگی جو اس بیماری کا سبب بنتی ہیں انسان کو زیادہ سے زیادہ پیدل چلنا چایئے اور تازہ پھل اور سبیزیاں کھانے چاہئے -
اس کے ساتھ ساتھ وہ لوگ جو اس مرض کا شکار ہیں ان کو چہئے کہ وہ اپنے علاقے کے کسی اچھے ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے علاج کروائیں کیونکہ ہومیوپیتھک میں اس مرض کا مکمل علاج موجود ہےاور میں یہاں پر چند ہومیوپیتھک ادویات کی کچھ علامات بیان کرتا ہوں ویسے تو اس مرض کیلئے ہومیوپیتھک بڑی وسیع رینج موجود ہے -
کلکیریاکارب -
اس دوائی کو اس مرض میں خاص مقام حاصل ہے اس دوائی کا مریض پلپلا ہوتا ہے اس کے ماتھے پر پسینہ ہوتا ہے اتنا پسینہ ہوتا ہے اس کے سر پر کہ اس کا تکیہ تک بھیگ جاتا ہے اور اگر کسی دکان پر کوئی بھی چیز لینے کیلئے جائیں اور وہاں کا دکاندار اگر اس دوائی کا مریض ہے تو یہ آپ کو نہ تو رعائت کرے گا اور نہ ہی پانی کا پوچھے گا اس کے مقابلے میں اگر دکاندار (کلکیریافاس کے مزاج کا ہے تو وہ آپ کو چائے پانی بھی پلائے گا اور ڈسکاونٹ بھی کرے گا -اور اگر اس دوائی کا رزلٹ اس مرض میں نہ ملے تو پھر (فیوکس ) دینی چاہئے
فیرم فاس-
اس دوائی کے مریض میں خون کی کمی ہونے کے باوجود اس کا جسم بڑھ رہا ہوتا ہے یعنی موٹاپے کی طرف مائل ہوتا ہے -
امونیم میور -
اس دوائی کے مریض کے چوتڑ بڑے ہوتے ہیں اور جسم بھی موٹا ہوتا ہے لیکن اس کی ٹانگیں پتلی ہوتی ہیں -
تھائرو ڈینم -
اس مرض میں اس دوائی کو بھی خاص مقام حاصل ہے اگر یہ دوائی علامات کے مطابق درست تجویز ہو جائے تو پھر یہ دوائی ایک دن میں 1 کلو وزن بھی کم کر سکتی ہے لیکن اس دوائی کو بغیر سوچے سمجھے استعمال نہیں کروانا چاہئے کیونکہ اس کے بہت نقصان ہو سکتے ہیں -
آرم میٹ
اگر کسی مریض کے دل کے گرد چربی جمع ہو جائے تو اس چربی کو بہت جلد کم کر دیتی ہے -
اینٹم کروڈ -
اس دوائی کو ہم نوجون لوگوں کے موتاپے میں استعمال کر سکتے ہیں -
گریفا ئٹس -
اس دوائی کو ہم خاص طور پر خواتین کے موٹاپے میں استعمال کروا سکتے ہیں جن کو ماہواری دیر سے آتی ہو اور اس وجہ سے ان کا جسم موٹا ہو گیا ہو -
🎆🎇🎄🏖️🏠🏕️🏝️😎🏝️🏕️🏠🏖️🎄🎇🎆
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں