🎇🎆🏖️🎄🏕️🏝️🏜️😎🏜️🏝️🏕️🎄🏖️🎆🎇
❓
کیا ھومیوپیتھک ادویات کی بھی کوئی مدت عمل Expiry date ھوتی
دیگر ممالک ( Canada ) وغیرہ کی طرح، حکومتِ پاکستان نے بھی ھومیوپیتھک ادویات پر expiry date لکھنا ضروری قرار دیدیا ھے ۔
کیا حکومت کا یہ فیصلہ درست ھے؟
آئیے جائزہ لیتے ھیں ۔
عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ھے کہ ھومیو ادویات کی کوئی مدت عمل یا expiry date نہیں ھوتی ۔
یہ بات کچھ ھومیوپیتھک ادویات پر تو ھربل اور ایلوپیتھک دواؤں کی طرح صادق آتی ھے، مگر زیادہ تر اسکے بر خلاف جاتی ھے ۔
کیسے؟
آئیے دیکھتے ھیں ۔
ایک اصول کی بات یاد رکھیں کہ جس بھی تیار شدہ دواء میں active material موجود ھو گا ( چاھے وہ دواء لیکوڈ شکل میں ھو یا سفوف کی شکل میں ھو، گولیوں کی شکل میں ھو یا مرھم کی شکل میں ھو، وہ دواء ایک خاص مدت تک قابلِ عمل رھتی ھے ۔ اسکے بعد اسکے شفایئہ اثرات میں کمی واقع ھونا شروع ھو جاتی ھے ۔
دواء میں، شِفایئہ اثرات میں کمی کا عمل ، ایلوپیتھک اور ھربل میڈیسن میں ( اجزاء کے لحاظ سے ) 6 ماہ سے دو سال کے عرصہ پر محیط ھوتا ھے
( ادویات کی expiry date , محض سابقہ تجربات کو بنیاد بنا کر لکھی جاتی ھے، اسکے لئے کوئی خاص اصول موجود نہیں ھے )
لیکن ھومیو پیتھک ادویات اس لحاظ سے زیادہ دیر تک قابلِ عمل رھتی ھے ۔ مگر
یہاں پر بھی اُسی اصول یعنی Active material کی بنیاد پر فیصلہ صادر کیا جائے گا ۔
ادویہ سازی pharmacy سے تعلق رکھنے والے افراد یہ بات بخوبی جانتے ھیں کہ ادویات بناتے وقت جو خام مال (جڑی بوٹیاں ) استعمال کیجاتی ھیں، ان میں سے ھر ایک کی مدتِ عمل یا طاقت ایک مخصوص عرصے تک قائم رھتی ھے ۔ ان میں سے بعض کی طاقت 6 ماہ سے ایک سال، بعض ایک سے 5سال بعض کی 20 سال وغیرہ وغیرہ۔
اب
جب بھی pharmacist کسی دواء کا نسخہ ترتیب دیتا ھے، وہ ان اجزاء سے تیار شدہ دواء کی expiry date کا تعین اس دواء میں سے جلد اثر کھو دینے والے جُز کے مطابق کرتا ھے ۔
مثال کے طور پر، جب کوئ ادویہ ساز کمپی کوئ شربت بناتی ھے، تو اس شربت کی شیلف لائف اسکی بوتل پر لکھ دیتی ھے
۔9
دراصل، بوتل پر لکھی گئی یہ expiry date , وہ نہیں ھوتی جو کہ سب سے کم اثر ھونے والے جُز کی ھوتی ھے بلکہ کمپنی کا pharmacist اسمیں ایک ایسی چیز preserver ( بینزوک ایسڈ ) ملادیتا جس سے کہ اس جلد اثر کھو دینے والے جُز کی مدتِ اثر کافی حد تک بڑھ جاتی ھے ۔اگر اسکی مدتِ اثر 2 سال تک بڑھ جائے، تو کمپنی بوتل پر دو سال بعد کی
expiry date
لکھ دیتی ھے ۔
یہ تو تھا ھربل اور ایلوپیتھک ادویہ ساز اداروں کا طریقہ ءکار ۔
اب بات کرتے ھیں ، ھومیوپیتھک طریقہ ءعلاج کی ۔
ادویہ سے منسلک تمام افراد بخوبی جانتے ھیں کہ ھومیوپیتھک ادویات کی بنیاد ایتھائل الکوحل ھے ۔
[ موجدِ ہومیوپیتھی ، ھنی مین، نے جب دواؤں کی آزمائش کی، تو ابتداء میں انہوں نے ڈسٹلڈ واٹر میں دوائیں تیار کیں ۔انہوں نے دیکھا کہ دوائیں بننے کے کچھ عرصہ بعد اپنا اثر کھو دیتی ھیں، انکا زائقہ خراب ھوجاتا ھے اور بجائے فائدہ کے، نقصان کا باعث بھی بن جاتی ھیں ۔
ھنی مین، بنیادی طور پر ایلوپیتھک ڈاکٹر تھے، انہیں فارمیسی کی بھی اچھی سمجھ تھی، لہٰزا انہوں اس کا حل یہ نکالا کہ دواؤں میں تھوڑی مقدار " برانڈی شراب " کی ملا دی ۔اس سے دواؤں کا خراب ھونا بند ھو گیا، اور دوائیں کافی زیادہ عرصہ تک بغیر اثر کھوئے زیادہ عرصہ تک قابلِ عمل رھتیں ]
لہٰذا ، ان کے خراب ھونے یا
expire
ھونے کا سوال ھی پیدا نہیں ھوتا ۔ لیکن
اس بات کا اطلاق تمام ھومیوپیتھک ادویات پر نہیں کیا جا سکتا ۔
یہاں ھم آپکی توجہ دوبارہ بنیادی اصول کی طرف مبذول کرانا چاھیں گے ۔ یعنی
Active material in the medicine
آپ سوچ رھے ھونگے کہ ھومیوپیتھک ادویات میں active matter کہاں سے آ گیا ؟
اگر ھم ھومیوپیتھک مدر ٹنکچرز ∅ MT کی مثال لیں تو آپ اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ اسمیں اصل دوا مادی صورت میں موجود ھوتی ھے چاھے اسکی مقدار کم ھی کیوں نہ ھو ۔
اب ، بنیادی اصول کیمطابق جس دوا میں دواء کا ُجز مادی طور پر پایا جائے گا اسکی ایک مخصوص مدتِ عمل expiry date بھی ھوگی جس کے بعد وہ غیرموثّر ھو جائے گی ۔
مگر مدر ٹنکچرز ، اسوقت تک موثر رھتے ھیں جب تک اس میں سے الکوحل evaporate نہ ھو جائے اور یہ اسی صورت ممکن ھے جب آپ مدر ٹنکچر کی بوتل کا ڈھکن کھلا چھوڑ دیں گے، ورنہ تو 10 سال تک بند شیشی سے الکوحل مکمل طور پر اُڑ نہیں سکتی ۔
اب آتے ھیں ھومیوپیتھک پوٹنسی (Dilutions ) کیطرف ۔
ھم جانتے ھیں کہ جب ھومیوپیتھک دواء کی طاقت C12 H سے CH30 تک پہنچ جاتی ھے تو اس میں مادی دواء کا ایک چھوٹا سا زرہ Active ingredient بھی نہیں پایا جاتا، تو پھر اس کے مدتِ عمل کے ختم ھونے کا سوال ھی پیدا نہیں ھوتا ۔ البتہ شرط یہ ھے کہ Dilutions کو دواؤں کو سٹور کرنے کے لیئے محفوظ طریقے استعمال کیے جائیں ۔
ھومیوپیتھک پوٹنیسیز کو غیر موثر ھونے سے بچانے کے لیئے مندرجہ زیل طریقہ کار اپنانا ضروری ھے ۔
1-
ڈائیلوشن کو لوھے یا کسی بھی دھات کی بنی ھوئی الماری میں نہ رکھا جائے ۔
2-
ڈائیلوشن کو، تیز ُخشبو یا بد بو سے بچا کر رکھنا چاھیئے -
3-
ڈائیلوشن کو، براؤن amber color رنگ کی شیشی میں رکھنا چاھیئے ۔
4-
دوا کا ڈھکن مبضوطی سے بند کر کے رکھیں
5-
دواء کو دھوپ direct sunlight اور زیادہ گرمی سے بچا کر رکھنا چاھیئے ۔
6-
ھومیو Dilutions کو ھمیشہ مقناطیسی دائرہءاثر magnetic field سے دُور رکھنا چاھیئے ۔ورنہ ان کا اثر ختم ھو سکتا ھے بلکہ ان کی dynamization پر اثر پڑ جائے گا ۔
7-
دواؤں کو لکڑی کی الماری رکھنا چاھیئے ۔
!
🎆🏖️🎄🏕️🏝️🏜️😎🏜️🏝️🏕️🎄🏖️🎆🎇
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں