🎇🎆🎄🎄🎄🎄🎄🎄🎄🎄🎄🎄🎄🎆🎇
*ہر شخص اپنی ذات میں اکائی ہے دوسرے سے یکسر مختلف *
کیا آپ دیکھتے ہیں کہ آرسنک، ایکونائٹ،بیلا ڈونا (خام حالت میں ) بندہ مار دیتی ہیں۔ جب کہ گوبھی، آلو پالک اور قیمہ ہم بڑی خوشی سے کھا لیتے ہیں۔لیکن یہی آرسنک، ایکونائٹ اور
بیلا ڈونا جب ہومیوپیتھی میں لطیف تر (پوٹنسی) حالت میں ہوتی ہیں تو بنی نوعِ انسان کے لیے اللہ کی نعمت بن جاتی ہیں اور گونا گوں بیماریوں سے نجات دلانے کا سبب بن جاتی ہیں۔
اور کیا آپ دیکھتے ہیں کہ ریت اپنی خام حالت میں (بفرضِ محال) ذرا سی نگل بھی لے جائے تو کوئی قیامت نہیں آ جاتی۔ اور نمک تو ہم روزانہ ہی اپنے روز مرہ استعمال میں لاتے ہیں۔ لیکن یہی مادے جب حالتِ لطیف میں آتے ہیں تو لامحدود قوت کے حامل بن جاتے ہیں۔
ایسا کیوں ہوتا ہے؟
جو لوگ بیماری کو محض پتھالوجی اور جسم انسانی میں ہونے والی عضویاتی تبدیلیوں کی شکل میں جانتے اور ہومیوپیتھی کو محض فزکس اور کیمسٹری کی نظر سے دیکھتے ہیں، اسے کبھی نہیں سمجھ پائیں گے۔ ہومیوپیتھی کو سمجھنا ہو تو اس کے حرکی پہلو (Dynamic aspect) کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔
کیا یہ بات غور طلب نہیں کہ ہر نامیاتی اور غیر نامیاتی شے اپنا الگ وجود رکھتی اور ہر شخص اپنی الگ اکائی اور الگ شناخت رکھتا ہے ۔ لہذاجب یہ بیمار ہوتا ہے تو اس کی دوا بھی تو الگ ہونی چاہیے، کیا خیال ہے ؟
کیا سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جائے گا ؟
🎇🎆🎄🎄🎄🎄🎄🎄🎄🎄🎄🎄🎄🎆🎇
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں