صفحات

منگل، 2 اکتوبر، 2018

Aatai Doctors k khilaf action Aur Homeoy Doctors ki Registration ka Adalti Hukum


*P L E A S E        N O T E*

*لاہور ہائیکورٹ نے عطائیوں کیخلاف بڑا فیصلہ سنا دیا*

*عدالت نے عطائیوں کے کلینک سربمہر کرنے کا  پنجاب حکومت کا اختیار قانونی قرار دے دیا*

*عدالت نے کلینک سربمہر کرنے کیخلاف عطائیوں کی درخواستیں خارج کر دیں*

*جسٹس عائشہ اے ملک نے 29صفحات پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا*

*عدالت نے کلینک سربمہر کرنے کیخلاف پنجاب حکومت کا مئوقف قانونی قرار دیدیا*

*پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ صحت عامہ کے تحفظ کیلئے بنایا گیا، سرکاری وکیل*

*صحت عامہ کیلئے عطائیوں کو اڈے چلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، سرکاری وکیل*

*ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ کا مقصد صحت عامہ سے متعلق ہر شعبے کو ریگولیٹ کرنا ہے، عدالتی فیصلہ*

*لاہور ہائیکورٹ پہلے ہی صحت عامہ کیلئے احتیاطی تدابیر کا اصول طے کر چکی ہے، فیصلہ*

*صحت عامہ سے متعلق کسی شعبے کو قانون سے ہٹ کر کام کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے، فیصلہ*

*ہیلتھ کیئر کمیشن عطائیوں کے کلینک سربمہر کرنے کا مکمل اختیار رکھتا ہے، فیصلہ*

*عطائیوں کے سکلز ڈویلپمنٹ کونسلزسے حاصل کردہ تربیتی ڈپلومے بھی غیرقانونی قرار*

*ایسے ڈپلوموں کی ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ کے تحت کوئی حیثیت نہیں، عدالتی فیصلہ*

*صرف چار قسم کی کوالیفیکیشن ہولڈرز ہی قانونی طور پر کلینیکل پریکٹس کر سکتے ہیں*

*Qualified & Registered with:*
*1- PMDC*
*2-NCH*
*3-NCT*
*4-Nursing council*

*All other are considered Quacks*

*According to Health Law & PHC LAW  dispensers , Health  Technicians , Dental Technicians ,  Laboratory Technicians , X-Ray , Ultrasound Technicians & Lady Health workers ETC  are not allowed for private clinical practise ,So be careful*

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں