صفحات

منگل، 2 جون، 2020

Hamal Kay Kitnay Sperems Honay Chaheyen

🎇🕌🌴🌅🎆🏝️🌌🕋🌌🏝️🎆🌅🌴🕌🎇🎇🕌🌅🎆🏝️🌌🕋🌌🏝️🎆🌅🕌🎇🎇🕌🌴🌅🎆🏝️🌌🕋🌌🏝️🎆🌅🌴🕌🎇

حمل کے لئے کتنے سپرمز ہونے چاہئیں؟


ایک عام آدمی کے سیمن (منی) میں، جس کی کل مقدار دو سے پانچ ملی لٹر تک ہوتی ہے،  سپرمز کی فی ملی لٹر تعداد پچاس سے ساٹھ ملین یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ تاہم حمل کے لئے سپرمز کی کم سے کم تعداد پندرہ سے بیس ملین فی ملی لٹر ہونی چاہیے۔ اس میں بھی کم از کم پچاس فیصد یا اس سے زیادہ سپرمز ایکٹیو حالت میں ہونے چاہئیں ورنہ حمل ٹہرنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ ان ایکٹیو سپرمز میں بھی شکل و صورت (morphology) کے اعتبار سے کوئی نقص نہیں ہونا چاہیے۔  ویسے ان لاکھوں کرڑوں سپرمز میں سے صرف ایک ہی سپرم اس قابل ہوگا کہ اپنی منزل مقصود تک پہنچ کر ایگ کو بارآور کر سکے۔ اس لمبے اور مشکل سفر کو طے کرنے  کے لئے سپرم اپنی "دم" کے ذریعے مسلسل اوپر کی طرف حرکت کرتے رہتے ہیں اور زاد راہ کے طور پر  اپنے اندر فرکٹوز (گلوکوز کی ایک قسم) کا مناسب ذخیرہ رکھتے ہیں تاکہ راستے میں ان کو درکار انرجی میسر آسکے۔

کیا مشبت زنی سے سپرم میں کمی آجاتی ہے ؟ 
 یقیناً مشت زنی سے سپرمز کی مقدار میں واضح کمی آتی ہے۔
سپرم جینیاتی طور پر یا کسی بیماری کی وجہ سے کم ہو سکتے ہیں- اس کے علاوہ ایک عام مسئلہ جو سپرم کاونٹ کے کم ہونے کی وجہ بنتا ہے اس پر کوئی بات نہیں کرتا کیونکہ اس سے نوجوانوں میں خوف پھیلانا یا guilty feeling پیدا کرنا ممکن نہیں ہوتا-

 وہ مسئلہ یہ ہے کہ صحت مند سپرم کے لیے testes کا درجہِ حرارت جسم سے کم ہونا چاہیے- جسم میں testes کے درجہِ حرارت کو کنٹرول کرنے کا فطری نظام موجود ہے کہ جب جسم کا درجہِ حرارت بڑھنے لگتا ہے جو testes کی تھیلی ڈھیلی پڑ جاتی ہے تاکہ ہوا کی سرکولیشن سے testes کا درجہِ حرارت کم رہے- لیکن جب ہم تنگ انڈرویئر پہنتے ہیں تو خصیے یعنی testes جسم کے ساتھ جڑے رہتے ہیں جس سے testes کا درجہِ حرارت بڑھ جاتا ہے اور سپرم مرنے لگتے ہیں- نوجوانوں میں سپرم کی کمی کے مسائل کی ایک بڑی وجہ تنگ انڈرویر اور جینز پہننا ہے جس سے جسم خصیوں کا درجہِ حرارت کنٹرول نہیں کر پاتا- ڈھیلے انڈرویر اور ڈھیلی پینٹ پہننا بہتر سپرم کاؤنٹ کے لیے ضروری ہے- ہمارے ہاں روائیتی طور پر تہبند، شلوار یا پائجامہ پہنا جاتا ہے جو اس ضمن میں انڈرویئر اور جینز پہننے سے کہیں بہتر ہے-

کیا بہت زیادہ سیکس سے سپرمز ختم یا مردہ ہوجاتے ہیں؟

اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے تو بہت زیادہ بہت کم سیکس کی کوئی تعریف یا پیمانہ مقرر نہیں ہے۔ لوگ روزانہ سے لیکر ہفتے یا مہینے میں چند دفعہ تک سیکس کر سکتے ہیں۔ البتہ جیسے کہ پہلے بتایا گیا، سپرمز کی پیدائش اور پختگی کا ایک سائیکل ستر سے اسی دنوں میں مکمل ہوتا ہے۔ اس لیے اگر بہت جلدی جلدی سیکس کیا جائے تو امکان ہے کہ سپرمز نا پختہ حالت میں ہی آنا شروع ہو جائیں۔ اس سے کچھ اور فرق تو نہیں پڑتا البتہ شادی شدہ اور اولاد کے خواہش مند افراد کے لیے حمل ٹہرنے کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔

سپرمز کی نشو ونما کی بے قاعدگیاں:
اولیگو سپرمیا: خصیوں میں سپرمز بننے کا ایک سائیکل تقریباً اسی دنوں میں مکمل ہوتا ہے۔ اگر یہ سائیکل اس سے زیادہ لمبا ہوجائے تو سپرمز کم  تعداد میں بنتے ہیں۔  شادی شدہ ہونے کی صورت میں حمل ٹہرنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔

ایزو سپرمیا: اس میں سپرمز بالکل نہیں بنتے۔ علاج بہت مشکل ہے۔ ڈاکٹر محض چانس لے کر علاج شروع کراتے ہیں۔

سپرمز کی حرکت کرنے کی صلاحیت (motility) کم ہونا۔  علاج ممکن ہے۔ سپرمز کو تقویت پہنچانے والی ادویہ استعمال کروائی جاتی ہیں۔

آخری ہدایت یہ ہے کہ جنسیات سے متعلق  کسی بھی مسلے کی صورت میں خود سے کوئی دوائی استعمال نہ کریں۔
 ایسی صورت میں بلا جھجک اپنے بڑوں کو اعتماد میں لے کر کسی مستند ہومیو ڈاکٹر یا مستند حکیم سے رجوع کریں۔
 ماہر جنسیات، گائناکالوجسٹ،  ان امراض کے لیے مناسب ڈاکٹر ہیں جن سے بوقت ضرورت رجوع کیا جاسکتا ہے۔



🎇🕌🌴🌅🎆🏝️🌌🕋🌌🏝️🎆🌅🌴🕌🎇🎇🕌🌅🎆🏝️🌌🕋🌌🏝️🎆🌅🕌🎇🎇🕌🌴🌅🎆🏝️🌌🕋🌌🏝️🎆🌅🌴🕌🎇

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں